29 نومبر 2011 - 20:30

يمن ميں لاکھوں مظاہرين نے ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا ہے-

ابنا: صنعا سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعا، تعز، عدن اور ديگر شہروں ميں ہونے والے ان مظاہروں ميں شريک افراد نے عبداللہ صالح کو ايسا مجرم قرار ديا جس نے امريکا اور سعودي عرب کے تعاون سے يمني عوام کے خلاف جرائم کيے ہيں اور اس پر مقدمہ چلانا اور اسے سزا دينا ضروري ہے-واضح رہے کہ سعودي عرب کے دارالحکومت رياض ميں اقتدار کي منتقلي کے منصوبے پر دستخط کے بعد سنيچر کو عبداللہ صالح يمن واپس لوٹ آيا ہے جس سے اس ملک کے عوام ميں غصے اور نفرت کي لہر دوڑ گئي ہے اور ملک ميں بدامني کے واقعات شروع ہو گئے ہيں-

يہ ايسے عالم ميں ہے کہ يمن کے ايک سيکورٹي ذريعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر بتايا ہے کہ بدھ کو شمالي صوبے صعدہ ميں حوثي قبائل اور شدت پسند وہابيوں کے درميان ہونے والي جھڑپوں ميں کم از کم پچيس افراد مارے گئے ہيں ........

/169